برطانیہ کی نئی امیگریشن پالیسیاں 2025: ویزا قوانین میں بڑی تبدیلیاں اور آپ کا مستقبل (مکمل گائیڈ)

 

برطانیہ کی نئی امیگریشن پالیسیاں 2024-2025: ویزا قوانین میں بڑی تبدیلیاں اور آپ کا مستقبل



برطانیہ (United Kingdom) ہمیشہ سے پاکستانیوں، ہندوستانیوں اور دنیا بھر کے تارکین وطن کے لیے ایک پرکشش منزل رہا ہے۔ لیکن گزشتہ چند مہینوں میں برطانوی حکومت نے اپنی امیگریشن کی تاریخ کی سب سے سخت ترین تبدیلیاں نافذ کی ہیں۔ ان تبدیلیوں کا بنیادی مقصد برطانیہ میں نیٹ مائیگریشن (Net Migration) کو کم کرنا ہے، جو کہ ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی تھی۔

اگر آپ برطانیہ جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، وہاں پہلے سے موجود ہیں، یا اپنے کسی عزیز کو بلانا چاہتے ہیں، تو یہ آرٹیکل آپ کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس تفصیلی گائیڈ میں ہم ہر ویزا کیٹیگری میں ہونے والی تبدیلیوں، تنخواہ کی نئی حدود، اور اس کے آپ پر اثرات کا جائزہ لیں گے

1. سکلڈ ورکر ویزا (Skilled Worker Visa): تنخواہ کی نئی دیوار

سب سے بڑی اور سب سے زیادہ زیر بحث تبدیلی "سکلڈ ورکر ویزا" کے قوانین میں کی گئی ہے۔ یہ وہ روٹ ہے جس کے ذریعے ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور دیگر ہنرمند افراد برطانیہ آتے ہیں۔

تنخواہ کی حد میں بھاری اضافہ (Salary Threshold Increase)

پہلے برطانیہ میں کام کرنے کے لیے کم از کم تنخواہ کی حد £26,200 سالانہ تھی۔ لیکن اب اسے بڑھا کر £38,700 کر دیا گیا ہے۔

اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو برطانیہ میں جاب آفر ملتی ہے، لیکن اس کی تنخواہ £38,700 سے کم ہے، تو آپ کو ویزا نہیں ملے گا (سوائے چند خاص رعایتوں کے)۔

20 فیصد رعایت کا خاتمہ (Removal of 20% Discount)

پہلے "Shortage Occupation List" میں شامل پیشوں کو تنخواہ میں 20 فیصد رعایت ملتی تھی۔ یعنی اگر آپ کا پیشہ اس لسٹ میں تھا، تو آپ کم تنخواہ پر بھی ویزا حاصل کر سکتے تھے۔ اب حکومت نے:

  1. پرانی لسٹ ختم کر دی ہے۔

  2. نئی لسٹ کا نام Immigration Salary List (ISL) رکھا ہے۔

  3. 20 فیصد تنخواہ کی رعایت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔


2. ہیلتھ اینڈ کیئر ویزا (Health & Care Visa): فیملی پر پابندی

برطانیہ کے ہیلتھ سیکٹر (NHS) کو غیر ملکی عملے کی شدید ضرورت ہے۔ اس لیے حکومت نے اس کیٹیگری کو £38,700 کی تنخواہ والی شرط سے مستثنیٰ رکھا ہے، لیکن اس کے بدلے ایک بہت بڑی سماجی پابندی لگا دی ہے۔

ڈیپینڈنٹس پر پابندی (Ban on Dependents)

یہ تبدیلی ہزاروں تارکین وطن کے لیے صدمے سے کم نہیں تھی۔ اب بیرون ملک سے آنے والے کیئر ورکرز (Care Workers) اور سینئر کیئر ورکرز اپنے شریک حیات (Spouse) اور بچوں کو برطانیہ نہیں لا سکتے۔

اس کا اثر:

  • پہلے بہت سے لوگ کیئر ویزا کو فیملی کے ساتھ سیٹل ہونے کا آسان راستہ سمجھتے تھے۔

  • اب اگر آپ کیئر ورکر کے طور پر برطانیہ جاتے ہیں، تو آپ کو اپنی فیملی کو اپنے ملک میں ہی چھوڑنا ہوگا۔ یہ فیصلہ تنہا رہنے کے چیلنج کو بڑھا دیتا ہے۔


3. فیملی اور سپاؤس ویزا (Family/Spouse Visa): محبت کی قیمت بڑھ گئی

اگر آپ برطانوی شہری ہیں یا وہاں پکے (Indefinite Leave to Remain) ہیں اور پاکستان یا کسی اور ملک سے اپنے شوہر یا بیوی کو برطانیہ بلانا چاہتے ہیں، تو یہ اب بہت مہنگا ہو چکا ہے۔

آمدنی کی نئی شرط (New Minimum Income Requirement)

برسوں سے سپاؤس ویزا کے لیے سپانسر کی آمدنی کی حد £18,600 تھی۔ حکومت نے اسے یکدم بڑھا دیا۔

  • موجودہ شرح: اب کم از کم سالانہ آمدنی £29,000 ہونا ضروری ہے۔

  • مستقبل کا منصوبہ: حکومت کا ارادہ ہے کہ اسے بتدریج بڑھا کر £34,500 اور پھر آخر کار £38,700 تک لے جایا جائے (تاہم فی الحال اسے £29,000 پر روکا گیا ہے تاکہ اس کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے)۔

اہم نوٹ: اگر آپ آمدنی کی شرط پوری نہیں کر سکتے، تو آپ کو بہت بڑی رقم بطور سیونگ (Savings) دکھانی پڑتی ہے جو کہ عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔


4. اسٹوڈنٹ ویزا (Student Visa): تعلیم صرف طالب علم کے لیے

برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں پاکستانی اور ہندوستانی طلباء کی بڑی تعداد جاتی ہے۔ لیکن اب اسٹوڈنٹ ویزا کو "ورک ویزا" کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے والوں کے لیے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔

فیملی ساتھ لانے پر پابندی

جنوری 2024 سے یہ قانون لاگو ہو چکا ہے کہ زیادہ تر بین الاقوامی طلباء (International Students) اپنے فیملی ممبرز (Dependents) کو برطانیہ نہیں لا سکتے۔

  • رعایت: صرف وہ طلباء اپنی فیملی لا سکتے ہیں جو پوسٹ گریجویٹ ریسرچ پروگرامز (جیسے PhD یا Research based Masters) میں داخلہ لیں گے۔ ماسٹرز بائے کورس ورک (جو کہ 90 فیصد طلباء کرتے ہیں) والوں پر پابندی ہے۔

پڑھائی کے دوران کام پر سختی

پہلے کچھ طلباء پڑھائی مکمل ہونے سے پہلے ہی "ورک ویزا" میں سوئچ کر لیتے تھے۔ اب قانون یہ ہے کہ جب تک آپ اپنی ڈگری مکمل نہیں کر لیتے، آپ اپنا ویزا ورک پرمٹ میں تبدیل نہیں کر سکتے۔


5. گریجویٹ روٹ (Graduate Route / PSW)

اچھی خبر یہ ہے کہ فی الحال "گریجویٹ روٹ" (جسے PSW بھی کہا جاتا ہے) کو ختم نہیں کیا گیا۔ یہ ویزا ڈگری مکمل کرنے کے بعد طلباء کو 2 سال تک برطانیہ میں کام تلاش کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

حکومت نے اس کا جائزہ لیا تھا لیکن فی الحال اسے برقرار رکھا گیا ہے، تاہم اس پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے کہ اس کا غلط استعمال نہ ہو۔


6. امیگریشن ہیلتھ سرچارج (IHS) میں اضافہ

ویزا فیس کے علاوہ، برطانیہ جانے والے ہر شخص کو "امیگریشن ہیلتھ سرچارج" دینا ہوتا ہے تاکہ وہ وہاں کی فری میڈیکل سروس (NHS) استعمال کر سکیں۔

اس فیس میں 66 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔

  • اب عام ویزا ہولڈرز کو سالانہ £1,035 ادا کرنا ہوں گے۔

  • طلباء اور بچوں کے لیے یہ فیس £776 سالانہ ہے۔

یہ اضافہ ویزا کے اخراجات کو لاکھوں روپے مزید مہنگا کر دیتا ہے۔


خلاصہ اور تجزیہ: اب راستہ کتنا مشکل ہے؟

ان تمام پالیسیوں کا مجموعی اثر یہ ہے کہ برطانیہ کا سفر اب "امیروں اور انتہائی ہنرمندوں" کے لیے محدود ہوتا جا رہا ہے۔

ویزا کی قسمپرانی شرطنئی شرط / تبدیلی
Skilled Worker£26,200 تنخواہ£38,700 تنخواہ
Spouse Visa£18,600 آمدنی£29,000 آمدنی
Care Visaفیملی کی اجازت تھیفیملی پر پابندی
Student Visaفیملی کی اجازت تھیفیملی پر پابندی (سوائے ریسرچ)

آپ کے لیے مشورہ (Pro Tips)

  1. اپنی اسکلز بڑھائیں: اب صرف ڈگری کافی نہیں، آپ کو ایسی جاب ڈھونڈنی ہوگی جو زیادہ تنخواہ دیتی ہو تاکہ آپ £38,700 کی حد پوری کر سکیں۔

    1. مشترکہ آمدنی: سپاؤس ویزا کے لیے یاد رکھیں کہ اگر آپ کی بچت (Savings) اچھی ہے تو اسے آمدنی کی کمی پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    2. دوسرے ممالک پر غور کریں: اگر برطانیہ کے قوانین بہت سخت لگ رہے ہیں، تو جرمنی، آئرلینڈ یا کینیڈا جیسے ممالک کے آپشنز بھی دیکھیں۔

    نتیجہ (Conclusion)

    برطانیہ کی یہ نئی امیگریشن پالیسیاں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ حکومت "تعداد کے بجائے معیار" (Quality over Quantity) پر توجہ دے رہی ہے۔ اگر آپ واقعی ہنرمند ہیں اور برطانیہ کی معیشت میں حصہ ڈال سکتے ہیں، تو دروازے اب بھی کھلے ہیں، لیکن داخلے کی قیمت بڑھ چکی ہے۔

    اگر آپ کو یہ آرٹیکل پسند آیا تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں جو برطانیہ جانے کا خواب دیکھ رہے ہیں، تاکہ وہ باخبر رہ سکیں۔