بیوی اور بچوں کو گالی دینا جرم: قومی اسمبلی سے ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 منظور – 3 سال قید کی سزا

 بیوی اور بچوں کو گالی دینا جرم: قومی اسمبلی سے ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 منظور – 3 سال قید کی سزا



پاکستان کی قومی اسمبلی نے گھریلو تشدد کا بل 2025 منظور کر لیا ہے۔ اب بیوی اور بچوں کو گالی دینا یا جذباتی ٹارچر کرنا جرم ہوگا جس کی سزا 3 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ ہے۔ مکمل تفصیلات یہاں پڑھیں۔

پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے، قومی اسمبلی نے "ڈومیسٹک وائلنس بل 2025" (Domestic Violence Bill 2025) منظور کر لیا ہے۔ یہ بل معاشرے کے کمزور طبقے خصوصاً خواتین، بچوں اور بزرگوں کو گھر کی چار دیواری کے اندر ہونے والے ہر قسم کے تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت اب صرف مار پیٹ ہی نہیں بلکہ "گالی دینا اور برا بھلا کہنا" بھی ایک قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔

بل کا پس منظر

یہ بل پاکستان پیپلز پارٹی کی رکنِ قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی کی جانب سے پیش کیا گیا۔ اس بل کا بنیادی مقصد گھروں کے اندر ہونے والے اس تشدد کو روکنا ہے جسے اکثر "ذاتی معاملہ" کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔ اس بل کی منظوری سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ عزتِ نفس کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

نئے قانون کے تحت کیا چیز "جرم" ہے؟

اس بل کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں تشدد کی تعریف کو وسیع کیا گیا ہے۔ اب درج ذیل تمام حرکات جرم تصور ہوں گی:

  1. زبانی اور جذباتی تشدد: بیوی، بچوں یا گھر کے کسی فرد کو گالی دینا، ان کی تذلیل کرنا، کردار کشی کرنا یا طعنے دینا۔

  2. نفسیاتی دباؤ: کسی کو ڈرانا دھمکانا، خودکشی کی دھمکی دینا یا ذہنی اذیت میں مبتلا کرنا۔

  3. معاشی تشدد: بیوی بچوں کا خرچہ بند کرنا، ضروریاتِ زندگی (کھانا، دوا، کپڑے) فراہم نہ کرنا یا ان کے پیسوں پر قبضہ کرنا۔

  4. جسمانی تشدد: مار پیٹ، دھکا دینا یا کسی بھی قسم کا جسمانی نقصان پہنچانا۔

  5. تعاقب (Stalking): گھر کے فرد کی پرائیویسی میں دخل دینا یا اس کا پیچھا کرنا۔

سزا اور جرمانہ

قومی اسمبلی سے منظور شدہ بل کے مطابق، جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سخت سزائیں دی جائیں گی:

  • قید: کم از کم 6 ماہ سے لے کر 3 سال تک قید۔

  • جرمانہ: 20 ہزار روپے سے لے کر 1 لاکھ روپے تک جرمانہ۔

  • عدالت مجرم کو حکم دے سکتی ہے کہ وہ متاثرہ شخص کو ہرجانہ بھی ادا کرے۔

کن لوگوں کو تحفظ حاصل ہوگا؟

یہ قانون صرف بیویوں کے لیے نہیں بلکہ گھر کے تمام افراد کو تحفظ دیتا ہے، بشمول:

  • بیوی / خواتین

  • بچے (18 سال سے کم عمر، بشمول لے پالک بچے)

  • بزرگ والدین

  • گھر میں موجود معذور افراد

عمل درآمد کیسے ہوگا؟

حکومت ہر ضلع میں "پروٹیکشن کمیٹیاں" تشکیل دے گی اور "پروٹیکشن آفیسرز" تعینات کیے جائیں گے۔ اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے تو وہ ہیلپ لائن یا متعلقہ افسر سے رابطہ کر سکتا ہے۔ یہ افسران متاثرہ شخص کو قانونی مدد، طبی امداد اور پناہ گاہ (Shelter) فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال: کیا یہ قانون صرف بیوی کو گالی دینے پر لاگو ہوتا ہے؟ جواب: نہیں، یہ قانون بیوی، بچوں، والدین اور گھر کے دیگر کمزور افراد کو گالی دینے یا ذہنی اذیت دینے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

سوال: اگر کوئی جھوٹا کیس کر دے تو کیا ہوگا؟ جواب: قانون میں جہاں تحفظ کی بات ہے وہاں جھوٹے الزام کی روک تھام کا میکنزم بھی عدالتی کارروائی کا حصہ ہوتا ہے، تاہم بنیادی مقصد مظلوم کی داد رسی ہے۔

سوال: کیا یہ قانون پورے پاکستان کے لیے ہے؟ جواب: چونکہ یہ قومی اسمبلی نے پاس کیا ہے، یہ فوری طور پر وفاقی دارالحکومت (اسلام آباد) پر لاگو ہوگا۔ تاہم، صوبائی اسمبلیاں بھی اس کی تقلید میں اپنے قوانین کو اپ ڈیٹ کریں گی۔


نتیجہ (Conclusion)

ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 کا پاس ہونا پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ اب گھر کا ماحول خوف کی بجائے عزت اور احترام پر مبنی ہونا ضروری ہے۔ یہ قانون اس فرسودہ سوچ کو ختم کرے گا کہ "اپنے بچوں یا بیوی کو کچھ بھی کہنے کا حق حاصل ہے۔" اب ہر شہری کی عزتِ نفس قانون کی حفاظت میں ہے۔