آرٹیفیشل انٹیلی جنس: ترقی کا زینہ یا انسانی مستقبل کے لیے خطرہ؟ کون سی نوکریاں ختم ہو رہی ہیں اور بے روزگاری کا جن کیسے قابو میں آئے گا؟

 آرٹیفیشل انٹیلی جنس: ترقی کا زینہ یا انسانی مستقبل کے لیے خطرہ؟ کون سی نوکریاں ختم ہو رہی ہیں اور بے روزگاری کا جن کیسے قابو میں آئے گا؟



مقدمہ: ایک نئی دنیا میں خوش آمدید (یا خبردار؟)

ہم تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں سائنس فکشن فلموں کی کہانیاں حقیقت کا روپ دھار رہی ہیں۔ کل تک جو باتیں محض تخیل لگتی تھیں، آج وہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ جی ہاں، ہم "آرٹیفیشل انٹیلی جنس" (Artificial Intelligence - AI) یعنی مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ دور جہاں ایک طرف بے پناہ سہولیات، حیرت انگیز ایجادات اور انسانی عقل کو دنگ کر دینے والی ترقی کا وعدہ کرتا ہے، وہیں دوسری طرف ایک بہت بڑا اور خوفناک سوالیہ نشان بھی ہمارے سامنے کھڑا کر رہا ہے: کیا یہ ٹیکنالوجی انسان کے لیے سہولت کار ہے یا اس کے وجود، خاص طور پر اس کے معاشی وجود کے لیے ایک سنگین خطرہ؟

گزشتہ چند سالوں میں، خاص طور پر ChatGPT، Midjourney، اور دیگر جنریٹو اے آئی (Generative AI) ٹولز کی آمد کے بعد، دنیا بھر میں ایک تھرथल کا مچ گیا ہے۔ وہ کام جنہیں کرنے میں انسانوں کو گھنٹوں، دنوں یا مہینوں لگتے تھے، اب یہ سافٹ ویئرز سیکنڈوں میں انجام دے رہے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر جہاں ہم ٹیکنالوجی کی داد دیتے ہیں، وہیں ہر ملازمت پیشہ شخص کے دل میں ایک انجانا خوف بھی جنم لے رہا ہے: "کیا میری نوکری محفوظ ہے؟"، "کیا کل کوئی روبوٹ یا سافٹ ویئر میری جگہ لے لے گا؟"

یہ خوف بے جا نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی بڑا تکنیکی انقلاب آیا ہے، اس نے پرانے نظاموں کو تہہ و بالا کیا ہے۔ صنعتی انقلاب نے دستکاروں کی جگہ مشینوں کو دی، کمپیوٹر انقلاب نے ٹائپ رائٹرز اور حساب کتاب کے پرانے طریقوں کو ختم کیا۔ لیکن مصنوعی ذہانت کا یہ انقلاب پچھلے تمام انقلابات سے مختلف اور زیادہ تیز رفتار ہے۔ یہ صرف جسمانی مشقت کو نہیں، بلکہ "دماغی مشقت" کو چیلنج کر رہا ہے۔

اس طویل بلاگ پوسٹ میں، ہم اس تلخ حقیقت کا جائزہ لیں گے کہ آیا واقعی اے آئی دنیا کے لیے خطرہ بننے لگی ہے؟ ہم تفصیل سے جانیں گے کہ وہ کون سی نوکریاں ہیں جو یا تو ختم ہو چکی ہیں یا شدید خطرے میں ہیں، اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے اس خدشے سے پریشان لوگ اپنے مستقبل کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں۔


حصہ اول: خطرے کی نوعیت – اے آئی ہم سے مختلف کیوں ہے؟

مصنوعی ذہانت کے خطرے کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ ٹیکنالوجی پچھلی ٹیکنالوجیز سے مختلف کیسے ہے۔

  1. سیکھنے کی صلاحیت (Machine Learning): پرانی مشینیں وہی کرتی تھیں جو انہیں سکھایا جاتا تھا یا جس کے لیے انہیں پروگرام کیا جاتا تھا۔ لیکن جدید اے آئی خود سیکھتی ہے۔ یہ ڈیٹا کا تجزیہ کرتی ہے، پیٹرن پہچانتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنے کام میں بہتر سے بہتر ہوتی جاتی ہے۔

  2. تخلیقی صلاحیت (Creativity): کچھ عرصہ پہلے تک یہ مانا جاتا تھا کہ تخلیقی کام (لکھنا، تصویر بنانا، موسیقی ترتیب دینا) صرف انسان کا خاصہ ہے۔ لیکن جنریٹو اے آئی نے یہ بھرم توڑ دیا ہے۔ اب اے آئی مضامین لکھ رہی ہے، شاعری کر رہی ہے اور ایوارڈ وننگ تصاویر بنا رہی ہے۔

  3. رفتار اور پیمانہ (Speed and Scale): ایک انسان دن میں 8 گھنٹے کام کر سکتا ہے، تھک جاتا ہے، چھٹی مانگتا ہے۔ اے آئی 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن، بغیر تھکے اور انسان سے ہزاروں گنا زیادہ رفتار سے کام کر سکتی ہے۔

یہ وہ خصوصیات ہیں جو اسے روایتی ملازمتوں کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بناتی ہیں۔ خطرہ یہ نہیں ہے کہ "ٹرمینیٹر" جیسی فلموں کی طرح روبوٹ بندوقیں اٹھا کر انسانوں کو مارنا شروع کر دیں گے (فی الحال تو نہیں)۔ اصل اور فوری خطرہ "معاشی خلل" (Economic Disruption) ہے۔ اگر لاکھوں لوگوں کی ملازمتیں اچانک ختم ہو جائیں اور نئی ملازمتیں اتنی تیزی سے پیدا نہ ہوں، تو معاشرے میں بے چینی، غربت اور عدم استحکام پھیلے گا۔


حصہ دوم: وہ نوکریاں جو ختم ہو گئیں یا شدید خطرے میں ہیں (تفصیلی جائزہ)

یہ وہ حصہ ہے جو سب سے زیادہ پریشان کن ہے، لیکن حقائق کا سامنا کرنا ضروری ہے۔ گولڈمین سیکس (Goldman Sachs) کی ایک رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت دنیا بھر میں تقریباً 30 کروڑ کل وقتی ملازمتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کون سے شعبے سب سے زیادہ زد میں ہیں:

1. ڈیٹا انٹری اور بنیادی دفتری کام (Data Entry and Clerical Work): یہ شاید سب سے پہلا شعبہ ہے جو مکمل طور پر خودکار (Automated) ہونے کے قریب ہے۔ ڈیٹا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا، فائلوں کو ترتیب دینا، بنیادی حساب کتاب رکھنا—یہ سب کام اے آئی ٹولز اب انسانوں سے کہیں زیادہ درستگی اور تیزی سے کر رہے ہیں۔ وہ کلرک جو سارا دن رجسٹروں یا ایکسل شیٹس میں ڈیٹا فیڈ کرتے تھے، ان کی ضرورت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ آپٹیکل کریکٹر ریکگنیشن (OCR) اور انٹیلجنٹ ڈاکیومنٹ پروسیسنگ (IDP) جیسی ٹیکنالوجیز نے کاغذی کارروائی کو ڈیجیٹل اور خودکار بنا دیا ہے۔

2. کسٹمر سروس اور ٹیلی مارکیٹنگ (Customer Service and Telemarketing): کیا آپ نے نوٹ کیا ہے کہ اب جب آپ کسی بینک یا بڑی کمپنی کی ویب سائٹ پر جاتے ہیں، تو سب سے پہلے آپ کا واسطہ ایک "چیٹ بوٹ" (Chatbot) سے پڑتا ہے؟ پہلے یہ چیٹ بوٹ بہت بنیادی جواب دیتے تھے، لیکن اب ChatGPT جیسی ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ انتہائی پیچیدہ سوالات کے جوابات بھی دے سکتے ہیں، اور وہ بھی بالکل انسانی لہجے میں۔ نتیجہ؟ کال سینٹرز میں بیٹھے ہزاروں نوجوانوں کی نوکریاں خطرے میں ہیں۔ ٹیلی مارکیٹنگ، جہاں لوگ آپ کو کال کرکے مصنوعات بیچتے تھے، اب "AI Voice Bots" کے ذریعے کی جا رہی ہے جو تھکتے نہیں اور ہر گاہک کے موڈ کے مطابق بات کر سکتے ہیں۔

3. کونٹینٹ رائٹنگ اور صحافت (Content Writing and Journalism): یہ وہ شعبہ ہے جہاں اے آئی نے سب سے بڑا دھچکا دیا ہے۔ دو سال پہلے تک، کونٹینٹ رائٹرز کی مانگ بہت زیادہ تھی۔ لیکن اب، بلاگ پوسٹس، سوشل میڈیا کیپشنز، مصنوعات کی تفصیلات، ای میلز، اور یہاں تک کہ بنیادی خبری رپورٹیں بھی اے آئی سیکنڈوں میں لکھ رہی ہے۔ وہ لکھاری جو صرف بنیادی سطح کا مواد (Generic Content) تیار کرتے تھے، ان کے لیے مارکیٹ میں جگہ بہت کم رہ گئی ہے۔ اب کمپنیاں 10 لکھاریوں کی جگہ 1 ایڈیٹر رکھتی ہیں جو اے آئی سے لکھوا کر اس کی نوک پلک سنوارتا ہے۔

4. گرافک ڈیزائننگ اور بنیادی آرٹ (Basic Graphic Design): Midjourney، DALL-E، اور Canva کے AI ٹولز نے گرافک ڈیزائننگ کی دنیا ہلا دی ہے۔ پہلے ایک لوگو (Logo) یا سوشل میڈیا پوسٹ بنانے کے لیے ڈیزائنر کو گھنٹوں محنت کرنی پڑتی تھی۔ اب ایک عام آدمی صرف چند الفاظ (Prompts) لکھ کر بہترین کوالٹی کی تصویر یا ڈیزائن تیار کر سکتا ہے۔ جو ڈیزائنرز صرف ٹیمپلیٹس پر کام کرتے تھے یا بنیادی سطح کا کام کرتے تھے، ان کی خدمات کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔

5. ترجمہ اور زبان کی خدمات (Translation Services): گوگل ٹرانسلیٹ بہت عرصے سے موجود ہے، لیکن اب DeepL اور دیگر جدید AI ماڈلز نے ترجمے کی کوالٹی کو حیران کن حد تک بہتر کر دیا ہے۔ اب بنیادی دستاویزات کے ترجمے کے لیے انسانی مترجم کی ضرورت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اگرچہ ادبی یا انتہائی پیچیدہ ترجموں کے لیے ابھی بھی انسان کی ضرورت ہے، لیکن کمرشل ٹرانسلیشن کا بڑا حصہ اے آئی کے پاس جا رہا ہے۔

6. بنیادی کوڈنگ اور پروگرامنگ (Basic Coding and Programming): یہ شاید بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن ہو، کیونکہ پروگرامنگ کو مستقبل کی جاب سمجھا جاتا تھا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ GitHub Copilot اور ChatGPT جیسے ٹولز اب بنیادی کوڈ لکھنے، بگس (Bugs) تلاش کرنے اور کوڈ کو بہتر بنانے میں ماہر ہو چکے ہیں۔ وہ پروگرامرز جو صرف بنیادی سطح کا کوڈ لکھتے ہیں (جونیئر ڈویلپرز)، ان کے لیے خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اب مانگ ان لوگوں کی ہے جو اے آئی سے کوڈ لکھوا کر اسے پیچیدہ سسٹمز میں انٹیگریٹ کر سکیں۔

7. اکاؤنٹنگ اور مالیاتی تجزیہ (Accounting and Financial Analysis): بک کیپنگ (Bookkeeping)، ٹیکس فائلنگ، اور بنیادی مالیاتی رپورٹس تیار کرنا—یہ سب کام اصولوں پر مبنی ہیں اور ڈیٹا کا کھیل ہیں۔ اے آئی اس میں ماہر ہے۔ مالیاتی شعبے میں بہت سی ایسی ملازمتیں جو اعداد و شمار کو ترتیب دینے سے متعلق تھیں، اب خودکار سافٹ ویئرز کے ذریعے ہو رہی ہیں۔


حصہ سوم: بے روزگاری کا خوف اور نفسیاتی اثرات

جب ہم ان ملازمتوں کے ختم ہونے کی بات کرتے ہیں تو یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ جیتی جاگتی انسانی زندگیاں ہیں۔ بے روزگاری کا خوف لوگوں میں شدید ذہنی دباؤ، بے چینی (Anxiety) اور مایوسی پیدا کر رہا ہے۔

  • شناخت کا بحران: بہت سے لوگوں کے لیے، ان کی نوکری صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں ہوتی، بلکہ ان کی شناخت (Identity) کا حصہ ہوتی ہے۔ جب انہیں لگتا ہے کہ ایک مشین ان کا کام ان سے بہتر کر سکتی ہے، تو وہ اپنی قابلیت اور اہمیت پر شک کرنے لگتے ہیں۔

  • معاشی عدم تحفظ: مہنگائی کے اس دور میں نوکری چھن جانے کا ڈر لوگوں کو راتوں کو سونے نہیں دیتا۔ خاص طور پر وہ لوگ جو اپنی عمر کے درمیانی حصے میں ہیں اور نئی ٹیکنالوجی سیکھنا ان کے لیے مشکل ہے، وہ سب سے زیادہ پریشان ہیں۔

  • مستقبل کی غیر یقینی صورتحال: طلباء اور نوجوان پریشان ہیں کہ وہ کس شعبے میں تعلیم حاصل کریں؟ کیا وہ ڈگری جو وہ آج لے رہے ہیں، چار سال بعد کارآمد ہوگی بھی یا نہیں؟


حصہ چہارم: کیا سب کچھ ختم ہو گیا؟ تصویر کا دوسرا رخ

یہاں تک پڑھ کر شاید آپ کو لگ رہا ہو گا کہ مستقبل تاریک ہے اور ہم سب بے روزگار ہونے والے ہیں۔ لیکن ٹھہریے! تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے، جو امید افزا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ ٹیکنالوجی نوکریاں ختم کرتی ہے، لیکن نئی نوکریاں پیدا بھی کرتی ہے۔ جب گاڑیاں آئیں تو تانگے بانوں کی نوکریاں ختم ہوئیں، لیکن ڈرائیوروں، میکینکس، ٹائر بنانے والوں اور سڑکیں بنانے والوں کی لاکھوں نئی نوکریاں پیدا ہوئیں۔ اے آئی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہونے کا امکان ہے۔

نئی ملازمتیں جو پیدا ہو رہی ہیں:

  1. AI پرامپٹ انجینئرز (Prompt Engineers): اے آئی سے بہترین نتیجہ حاصل کرنے کے لیے اسے صحیح ہدایات (Prompts) دینا ایک ہنر ہے۔ اس وقت مارکیٹ میں اچھے پرامپٹ انجینئرز کی زبردست مانگ ہے۔

  2. AI ایتھکس اور سیفٹی ماہرین (AI Ethics and Safety Experts): اے آئی غلط فیصلے نہ کرے، تعصب سے پاک ہو اور انسانیت کے لیے نقصان دہ نہ ہو—یہ یقینی بنانے کے لیے ماہرین کی ضرورت ہے۔

  3. ڈیٹا سائنسدان اور AI ٹرینرز (Data Scientists and AI Trainers): اے آئی کو سیکھنے کے لیے ڈیٹا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ڈیٹا کو صاف کرنا، ترتیب دینا اور اے آئی ماڈلز کو ٹرین کرنا ایک بہت بڑا فیلڈ ہے۔

  4. روبوٹکس مینٹیننس: جیسے جیسے فیکٹریوں اور گوداموں میں روبوٹس بڑھیں گے، انہیں ٹھیک کرنے اور سنبھالنے والے ہنر مند افراد کی ضرورت بڑھے گی۔

  5. ذہنی صحت کے ماہرین: ٹیکنالوجی کی تیز رفتاری سے پیدا ہونے والے دباؤ سے نمٹنے کے لیے تھراپسٹس اور کونسلرز کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہوگی۔


حصہ پنجم: مستقبل کی تیاری – خود کو بے روزگاری سے کیسے بچائیں؟

اب سب سے اہم سوال: اس طوفان میں ہم خود کو کیسے محفوظ رکھیں؟ جواب یہ نہیں ہے کہ اے آئی سے مقابلہ کیا جائے، بلکہ جواب یہ ہے کہ اے آئی کو اپنا "ساتھی" بنایا جائے اور ان صلاحیتوں پر توجہ دی جائے جو مشینوں میں نہیں ہیں۔

1. ان صلاحیتوں کو نکھاریں جو "انسانی" ہیں (Focus on Soft Skills): کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اے آئی (فی الحال) نہیں کر سکتی یا انسانوں کی طرح اچھی نہیں کر سکتی:

  • جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence - EQ): دوسروں کے جذبات کو سمجھنا، ہمدردی کرنا، ٹیم کو موٹیویٹ کرنا۔ ایک اچھا لیڈر یا مینیجر اے آئی سے نہیں بدلا جا سکتا۔

  • پیچیدہ مسائل کا حل (Complex Problem Solving): اے آئی ڈیٹا کی بنیاد پر جواب دیتی ہے، لیکن جہاں ڈیٹا موجود نہ ہو یا صورتحال بالکل نئی ہو، وہاں انسانی عقل اور وجدان (Intuition) کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • اعلیٰ درجے کی تخلیقی صلاحیت (High-Level Creativity): اے آئی موجودہ چیزوں کو ملا کر کچھ نیا بنا سکتی ہے، لیکن بالکل منفرد اور انقلابی آئیڈیاز اب بھی انسانی دماغ کی उपज ہیں۔

2. دوبارہ سیکھنے کے لیے تیار رہیں (Reskilling and Upskilling): زندگی بھر ایک ہی ہنر کے بل بوتے پر نوکری کرنے کا زمانہ گزر گیا۔ اب آپ کو ہر چند سال بعد نئی چیزیں سیکھنی پڑیں گی۔ اگر آپ گرافک ڈیزائنر ہیں، تو صرف فوٹوشاپ پر اکتفا نہ کریں، بلکہ سیکھیں کہ Midjourney کو استعمال کرکے اپنا کام کیسے تیز کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ لکھاری ہیں، تو اے آئی کو اپنا ریسرچ اسسٹنٹ بنائیں۔

3. تکنیکی مہارت (Tech Savviness): آپ کو پروگرامر بننے کی ضرورت نہیں، لیکن آپ کو یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کے شعبے میں کون سے AI ٹولز آ رہے ہیں اور انہیں کیسے استعمال کرنا ہے۔ جو شخص اے آئی ٹولز استعمال کرنا جانتا ہے، وہ اس شخص کی جگہ لے لے گا جو نہیں جانتا۔

4. ایسے شعبوں کا انتخاب (Choosing Safe Careers): کچھ شعبے ایسے ہیں جہاں انسانی لمس (Human Touch) کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔ مثلاً:

  • صحت کی دیکھ بھال (نرسنگ، بزرگوں کی دیکھ بھال، فزیوتھراپی)۔

  • تعلیم اور تربیت (خاص طور پر ابتدائی تعلیم اور مینٹورشپ)۔

  • ہنر مند تجارت (Skilled Trades: الیکٹریشن، پلمبر، کارپینٹر—روبوٹس کے لیے گھروں میں جا کر یہ پیچیدہ کام کرنا ابھی مشکل ہے)۔


نتیجہ:

آرٹیفیشل انٹیلی جنس بلاشبہ انسانی تاریخ کا ایک بڑا موڑ ہے۔ یہ دنیا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اگر ہم نے اس کی رفتار کے مطابق خود کو نہ بدلا۔ بے روزگاری کا خطرہ حقیقی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو روایتی طریقوں سے چمٹے ہوئے ہیں۔ وہ نوکریاں جو تکراری (repetitive) ہیں اور جن میں تخلیقی سوچ یا جذباتی ذہانت کی ضرورت نہیں، وہ ختم ہو جائیں گی۔

لیکن، یہ ڈرنے کا وقت نہیں، بلکہ جاگنے اور عمل کرنے کا وقت ہے۔ اے آئی ایک اوزار (Tool) ہے، بالکل ویسے ہی جیسے کبھی کیلکولیٹر یا کمپیوٹر تھا۔ جس نے کیلکولیٹر چلانا سیکھ لیا، اس نے حساب کتاب میں دوسروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ آج جو اے آئی کو چلانا سیکھ لے گا، وہ اپنے کیریئر کو محفوظ بنا لے گا۔

مستقبل ان کا نہیں ہے جو اے آئی سے ڈرتے ہیں، بلکہ ان کا ہے جو اے آئی کے ساتھ مل کر کام کرنا سیکھتے ہیں اور اپنی ان "انسانی خصوصیات" کو مزید نکھارتے ہیں جن کی نقل کوئی مشین نہیں کر سکتی۔ تبدیلی تکلیف دہ ضرور ہوتی ہے، لیکن یہی ترقی کا راستہ بھی ہے۔

Tags